حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، 8 نومبر 2026ء کو منعقدہ اس باوقار علمی تقریب میں بلتستان کے گیارہ دینی مدارس سے وابستہ اساتذہ، طلبہ و طالبات، علمائے کرام، اہل قلم، دانشوروں اور سماجی شخصیات نے شرکت کی۔ تقریب کا بنیادی مقصد دینی مدارس میں تحقیق، تصنیف و تالیف اور علمی و فکری سرگرمیوں کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ نئے محققین اور اہل قلم کی حوصلہ افزائی کرنا تھا۔
یہ تقریب دراصل گزشتہ کئی ماہ سے جاری ایک وسیع علمی و تحقیقی منصوبے کا اختتامیہ تھی، جس کے تحت بلتستان کے مختلف دینی مدارس میں تحقیقی و تربیتی کورسز منعقد کیے گئے۔ اس منصوبے کا مرکزی موضوع ’’کربلا در اندیشۂ آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای‘‘ تھا، جس کا مقصد رہبرِ شہید (ره) کے کربلائی افکار و نظریات کا مطالعہ، ان کی علمی توضیح اور انہیں نوجوان نسل کے لیے قابل فہم انداز میں پیش کرنا تھا۔ اس سلسلے میں مختلف مدارس کے طلبہ و طالبات نے 500 سے زائد تحقیقی مقالات تحریر کیے، جو بلتستان کے دینی مدارس کی علمی و تحقیقی تاریخ میں ایک اہم پیش رفت ہے۔

تقریب کا آغاز
پروگرام کا باقاعدہ آغاز حجت الاسلام شیخ قاری غلام محمد صابری کی تلاوتِ قرآن مجید سے ہوا، جس کے بعد بین الاقوامی نوعیت کے اس پروگرام میں پاکستان اور ایران کے قومی ترانے پیش کیے گئے۔
تقریب کے نظامت کے فرائض حجت الاسلام شیخ اشرف مظہر، مدرس جامعۃ النجف، نے انجام دیے۔ انہوں نے شرکائے تقریب کو خوش آمدید کہا اور پروگرام کے اغراض و مقاصد پر روشنی ڈالی۔
شیخ سکندر بہشتی: 500 سے زائد مقالات کی تحریر بلتستان کے مدارس میں ایک اہم علمی پیش رفت ہے
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مسئولِ تحقیق جامعۃ المصطفیٰ العالمیہ کراچی، شیخ سکندر بہشتی نے قلم اور اہل قلم کی اہمیت و عظمت پر گفتگو کی۔
انہوں نے کہا: اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں قلم کی قسم کھائی ہے، جو اس بات کی دلیل ہے کہ قلم محض تحریر کا ذریعہ نہیں بلکہ تہذیبوں کی تعمیر، افکار کی بقا اور نسلوں کی فکری و علمی رہنمائی کا اہم وسیلہ ہے۔

مسئولِ تحقیق جامعۃ المصطفیٰ نے تقریب کے اغراض و مقاصد بیان کرتے ہوئے کہا: یہ پروگرام رہبرِ شہید (ره) کے کربلائی افکار پر مقالات تحریر کرنے کے ایک وسیع تحقیقی منصوبے کا اختتام ہے۔ رواں سال مقالہ نویسی اور دیگر تحقیقی سرگرمیوں کے سلسلے میں مختلف تربیتی کورسز منعقد کیے گئے، جن کے نتیجے میں بلتستان کے مختلف مدارس کے طلبہ و طالبات نے 500 سے زائد تحقیقی مقالات تحریر کیے۔
انہوں نے کہا: بلتستان کے دینی مدارس میں بیک وقت اتنی بڑی تعداد میں تحقیقی مقالات کی تیاری ایک غیر معمولی کامیابی ہے۔ اس تقریب کا مقصد ان تمام طلبہ، اساتذہ اور محققین کی حوصلہ افزائی کرنا ہے جنہوں نے پہلی مرتبہ قلم اٹھایا اور تحقیق کے میدان میں قدم رکھا۔
شیخ سکندر بہشتی نے تمام مہمانوں، علمائے کرام، سماجی شخصیات اور محققین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے پروگرام کے انعقاد میں ڈاکٹر کاظم سلیم اور جامعۃ النجف سکردو کے کلیدی کردار کو خصوصی طور پر سراہا۔
حجت الاسلام علامہ شیخ محمد علی توحیدی: علم و تحقیق کے بغیر عالم اسلام کا عالمی طاقت بننے کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مدیر جامعۃ النجف سکردو، معروف مترجم و محقق حجت الاسلام علامہ شیخ محمد علی توحیدی نے تحقیق کی اہمیت، دینی مدارس کی علمی ذمہ داریوں اور عالم اسلام کے مستقبل کے حوالے سے تفصیلی گفتگو کی۔
انہوں نے تحقیق کی اہمیت بیان کرتے ہوئے ایک حدیث کا حوالہ دیا اور کہا: کوئی روش تحقیق سے بہتر نہیں ہے۔ مکتب اہل بیتؑ میں اصول دین اور بنیادی عقائد کے معاملے میں تقلید کی گنجائش نہیں، بلکہ ہر انسان کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے عقائد کو تحقیق اور دلیل کی بنیاد پر قبول کرے۔ اگر انسان بغیر تحقیق کے دین کو قبول کرتا ہے تو وہ کسی بھی وقت گمراہی کا شکار ہو سکتا ہے۔

حجت الاسلام شیخ توحیدی نے کہا: ایک شخص سو سال تک خدا کی عبادت کرتا رہے، لیکن اگر اسے یہ معلوم نہ ہو کہ وہ کس کی عبادت کر رہا ہے اور کیوں کر رہا ہے تو کوئی بھی اسے گمراہ کر سکتا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ عبادت کے ساتھ شعور، معرفت اور تحقیق بھی ضروری ہے۔
انہوں نے عصر حاضر میں علمی و تحقیقی سرگرمیوں کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا: آج دنیا میں وہی اقوام ترقی اور برتری حاصل کر رہی ہیں جو تحقیق کے میدان میں آگے ہیں۔ موجودہ دور میں طاقت کا اصل مرکز محض فوجی قوت اور ہتھیار نہیں بلکہ علم، تحقیق، تخصص اور ٹیکنالوجی ہے۔
علامہ شیخ محمد علی توحیدی نے کہا: دنیا کی بعض تجارتی کمپنیوں کی سالانہ آمدنی کئی کھرب ڈالر تک پہنچ چکی ہے، جو متعدد ممالک کی مجموعی معاشی استعداد سے بھی زیادہ ہے۔ ان کمپنیوں کی ترقی کا ایک بنیادی سبب تحقیق و تخصص پر بھاری سرمایہ کاری ہے۔
انہوں نے امت مسلمہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا: اگر ہم ایک علمی، دینی اور مذہبی قوت کی حیثیت سے دنیا میں اپنا مقام بنانا چاہتے ہیں تو ہمیں محققین کی تعداد بڑھانا ہوگی۔ تحقیق اور تخصص کے میدان میں نمایاں پیش رفت کے بغیر عالم اسلام کو عالمی طاقت بنانے کا دعویٰ محض نعرہ بن کر رہ جائے گا۔
علامہ توحیدی نے اعداد و شمار کی روشنی میں مسلم معاشروں کی علمی و تحقیقی کمزوریوں کی نشاندہی کرتے ہوئے اسرائیل کی مثال پیش کی اور کہا: یہودی آبادی کی محدود تعداد کے باوجود عالمی سطح پر اس کا اثر و رسوخ نمایاں ہے، جس کے اسباب میں علمی، تحقیقی اور تخصصی سرگرمیاں بھی شامل ہیں۔

انہوں نے کہا: ہمارے دینی مدارس کا نصاب اپنی نوعیت کے اعتبار سے تحقیقی اور اجتہادی ہے، لیکن اس کے باوجود ہمارے ہاں محققین اور صاحب قلم علما کی تعداد بہت کم رہی ہے۔ جامعۃ المصطفیٰ العالمیہ کی نمایاں خدمات میں سے ایک یہ ہے کہ یہاں سے فارغ التحصیل ہونے والا عالم محض درس و تدریس تک محدود نہیں رہتا بلکہ صاحب قلم اور صاحب کتاب بھی بنتا ہے۔ اس ادارے نے دینی مدارس کے علمی و تعلیمی مزاج میں ایک بنیادی تبدیلی پیدا کرنے میں کردار ادا کیا ہے۔
انہوں نے بلتستان کے نوجوانوں کی علمی صلاحیتوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا: جامعۃ المصطفیٰ العالمیہ نے ایران میں 110 ممالک سے تعلق رکھنے والے ہزاروں طلبہ میں سے دس افراد کا انتخاب کیا، جن میں چھ کا تعلق بلتستان سے تھا۔ اسی طرح جامعۃ المصطفیٰ سے پی ایچ ڈی کرنے والے افراد میں بھی بلتستان کے طلبہ نمایاں مقام رکھتے ہیں، جو اس خطے کے نوجوانوں کی ذہانت اور علمی استعداد کا واضح ثبوت ہے۔
حجت الاسلام شیخ محمد علی توحیدی نے مزید کہا: ہمارے طلبہ و طالبات میں بے پناہ صلاحیتیں موجود ہیں، لیکن منظم منصوبہ بندی اور تحقیقی اداروں کی کمی کے باعث ان صلاحیتوں کے اثرات پوری طرح سامنے نہیں آ رہے۔ بلتستان میں سینکڑوں دینی مدارس اور ہزاروں طلبہ و طالبات موجود ہیں، لیکن اس تناسب سے تحقیقی مراکز نہ ہونے کے برابر ہیں۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ ہر سطح پر تحقیقی ادارے اور مراکز قائم کیے جائیں۔
علامہ توحیدی نے تحقیق پر مبنی معاشرے کی تشکیل کا تصور پیش کرتے ہوئے کہا: ہمیں ایک Research-Based معاشرہ تشکیل دینا چاہیے، جہاں تعلیمی، دینی اور سماجی ادارے علمی و تحقیقی بنیادوں پر استوار ہوں۔ ہماری کوشش ہونی چاہیے کہ آئندہ بیس برسوں میں کوئی مسجد، اسکول، مدرسہ یا ادارہ ایسا نہ ہو جس کی قیادت اور انتظامی ذمہ داریاں پی ایچ ڈی اور اعلیٰ علمی استعداد رکھنے والے افراد کے ہاتھ میں نہ ہوں۔ اس مقصد کے لیے منظم اور سنجیدہ کوششوں کی ضرورت ہے۔
حجت الاسلام سید احمد الحسینی: یہ تقریب آنے والی نسلوں کے لیے ایک علمی سرمایہ ہے
مدیر مدرسہ خدیجۃ الکبریٰ گمبہ سکردو اور امام جمعہ گمبہ سکردو حجت الاسلام سید احمد الحسینی نے اپنے خطاب میں اس پروگرام کو پوری قوم کے لیے ایک علمی احسان قرار دیا۔
انہوں نے کہا: یہ محفل محض ایک روزہ تقریب نہیں بلکہ آنے والی نسلوں پر ایک احسان ہے، کیونکہ اس نے معاشرے میں قلم، تحقیق اور علمی کاوشوں کی اہمیت کو دوبارہ اجاگر کیا ہے۔

انہوں نے علامہ شیخ محمد علی توحیدی کی گفتگو کا حوالہ دیتے ہوئے کہا: اب ضرورت اس امر کی ہے کہ پیش کی گئی تجاویز کو عملی شکل دی جائے اور تمام علمائے کرام، اہل علم اور متعلقہ ادارے اس علمی و تحقیقی وژن کو آگے بڑھانے کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔
مدیر مدرسہ خدیجۃ الکبریٰ نے حجت الاسلام ڈاکٹر کاظم سلیم، حجت الاسلام شیخ سکندر بہشتی اور جامعۃ النجف سکردو کا شکریہ ادا کیا اور پروگرام کی کامیابی، ملت کی سربلندی اور ظہور امام زمانہؑ کے لیے دعا کی۔
حاجی فدا محمد ناشاد: انقلاب اسلامی نے سیاسی تبدیلی کے ساتھ علمی انقلاب کی بنیاد بھی رکھی
سابق ڈپٹی چیف ایگزیکٹو، سابق اسپیکر، مصنف، مؤلف اور معروف شاعر و ادیب حاجی فدا محمد ناشاد نے اپنے خطاب میں تقریب کو ایک اہم علمی و فکری پیش رفت قرار دیا۔
انہوں نے علامہ شیخ محمد علی توحیدی کی گفتگو کو سراہتے ہوئے کہا: ان کی تقریر نے ہمارے سامنے کئی نئے علمی زاویے اور امکانات کے دروازے کھول دیے ہیں۔
حاجی فدا محمد ناشاد نے کہا: اگر ایران میں پی ایچ ڈی اور اعلیٰ تحقیقی اسناد رکھنے والے افراد کی تعداد زیادہ ہے تو ہمیں یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ یہ افراد کب اور کیسے تیار ہوئے۔ میری نظر میں ایران میں اسلامی روح پھونکنے والی شخصیت امام خمینیؒ تھے، جبکہ اس تحریک کو امامِ شہید آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای نے آگے بڑھایا۔ اس انقلاب نے محض سیاسی تبدیلی پیدا نہیں کی بلکہ ایک علمی انقلاب کی بنیاد بھی رکھی۔

انہوں نے بلتستان کو ایرانِ صغیر قرار دیتے ہوئے کہا: اس خطے میں علمائے کرام کی آمد اور ان کی علمی و دینی خدمات کی ایک طویل تاریخ ہے۔ علامہ شیخ محسن علی نجفی نے تحقیق کے فروغ کے لیے ادارہ الکوثر قائم کرکے جو خدمات انجام دیں، ان کا تسلسل برقرار رکھنے کی ضرورت ہے۔ اسی طرح ڈاکٹر کاظم سلیم نے جو علمی و تحقیقی وژن پیش کیا ہے، اسے عملی طور پر آگے بڑھانے کے لیے تمام حلقوں کو تعاون کرنا چاہیے۔
حاجی فدا محمد ناشاد نے کتابوں کی نمائش میں مقامی علمائے کرام کی تصانیف دیکھ کر خوشی کا اظہار کیا اور کہا: اس علمی و ادبی سلسلے کو مزید وسعت دی جا سکتی ہے۔
انہوں نے گلگت بلتستان میں پہلی یونیورسٹی کے قیام کے لیے اپنی جدوجہد اور ذاتی تجربات کا ذکر کرتے ہوئے مزید باشعور اور علمی محافل کے انعقاد کی ضرورت پر زور دیا۔

حجت الاسلام ڈاکٹر فدا حسین عابدی: کامیاب دینی طالب علم محقق، مدرس اور مقرر ہونا چاہیے
محقق، مصنف اور مدیر مدرسہ شہید امام خامنہ ای حجت الاسلام ڈاکٹر فدا حسین عابدی نے اپنے خطاب میں جامعۃ المصطفیٰ العالمیہ کے مسئولین ڈاکٹر کاظم سلیم اور شیخ سکندر بہشتی کو مبارک باد پیش کی اور تقریب کو دینی مدارس اور سماجی شخصیات کے اشتراک سے منعقد ہونے والی ایک منفرد علمی محفل قرار دیا۔
انہوں نے کہا: قرآن مجید نے انسان کو تحقیق، غور و فکر اور تدبر کی دعوت دی ہے۔ قرآن کی متعدد آیات اور احادیث میں تحقیق کی اہمیت واضح کی گئی ہے۔ قرآن انسان کو اندھی تقلید سے نکال کر فکر و تدبر اور دلیل کی بنیاد پر حقائق تک پہنچنے کی رہنمائی کرتا ہے۔

ڈاکٹر فدا حسین عابدی نے دینی مدارس میں حصول علم کے مقصد کی وضاحت پر زور دیتے ہوئے کہا: ہر طالب علم کو معلوم ہونا چاہیے کہ وہ مدرسے میں کیوں آیا ہے اور اس کی علمی و عملی ذمہ داری کیا ہے۔ جب تک انسان اپنا مقصد اور ہدف متعین نہیں کرتا، اس وقت تک اس کی علمی شخصیت بھی واضح نہیں ہو سکتی۔
انہوں نے ایک کامیاب دینی طالب علم کے لیے تین میم اور تین تاء کا فارمولا پیش کرتے ہوئے کہا: ایک کامیاب عالم کو محقق، مدرس اور مقرر ہونا چاہیے، جبکہ تحقیق، تعلیم اور تدریس کے تینوں میدانوں میں مہارت حاصل کرنا بھی ضروری ہے۔ جو عالم ان تینوں شعبوں میں صلاحیت رکھتا ہو، وہ ایک جامع اور مؤثر علمی کردار ادا کر سکتا ہے۔
حجت الاسلام فدا حسین عابدی نے کہا: یہی پیغام شہید سید علی خامنہ ای بھی مسلسل دیتے رہے ہیں کہ دینی علوم کے طلبہ کو علمی، تحقیقی اور عملی میدانوں میں اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لانا چاہیے۔

نمایاں محققین میں انعامات اور اعزازات کی تقسیم
تقریب کا ایک اہم اور پُرجوش مرحلہ انعامات اور اعزازات کی تقسیم کا تھا، جس میں مختلف علمائے کرام، سماجی شخصیات اور معزز مہمانوں کے ہاتھوں کامیاب طلبہ و طالبات اور محققین کو انعامات پیش کیے گئے۔
اس موقع پر مختلف مدارس کے درجنوں طلبہ کے سرٹیفکیٹس ان کے متعلقہ اساتذہ کے حوالے کیے گئے، کیونکہ شرکا کی بڑی تعداد کے پیش نظر ہر طالب علم کو انفرادی طور پر سرٹیفکیٹ دینا ممکن نہیں تھا۔ نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والے طلبہ کو شیلڈز بھی پیش کی گئیں۔
اسی طرح حجت الاسلام شیخ سجاد حسین مفتی، حجت الاسلام شیخ حسن سروری اور حجت الاسلام شیخ یونس کو صوبائی سطح پر ’’محقق برتر ایوارڈز 2026ء‘‘ سے نوازا گیا۔
اس موقع پر ان طلبہ و طالبات کی حوصلہ افزائی کی گئی جنہوں نے پہلی مرتبہ تحقیقی میدان میں قدم رکھا تھا۔ ان کے لیے علمی شخصیات کے ہاتھوں اعزازات وصول کرنا ایک یادگار اور حوصلہ افزا لمحہ تھا۔

حجت الاسلام ڈاکٹر کاظم سلیم: بلتستان کے نوجوانوں میں غیر معمولی علمی صلاحیتیں موجود ہیں، انہیں مواقع فراہم کرنے کی ضرورت ہے
اختتامی خطاب کرتے ہوئے ڈائریکٹر شعبۂ تحقیق، جامعۃ المصطفیٰ العالمیہ شعبہ پاکستان، حجت الاسلام ڈاکٹر کاظم سلیم نے پروگرام کے انعقاد میں حجت الاسلام شیخ سکندر بہشتی کی کوششوں کو سراہا اور جامعۃ النجف سکردو کو ایک اہم علمی و تحقیقی مرکز قرار دیا۔
انہوں نے کہا: پاکستان بھر کے دینی مدارس میں تحقیق کے فروغ کے لیے علامہ شیخ محمد علی توحیدی نے جو خدمات انجام دی ہیں، وہ قابل تحسین ہیں۔ اہل بلتستان کے اندر بے پناہ علمی و تحقیقی صلاحیتیں موجود ہیں، جن کی نشاندہی علامہ توحیدی نے بھی اپنی گفتگو میں کی ہے۔ اس خطے کے محقق علمائے کرام کی ایک بڑی تعداد جامعۃ النجف کے شاگردوں پر مشتمل ہے۔
حجت الاسلام ڈاکٹر کاظم سلیم نے کہا: ایک تلخ حقیقت یہ ہے کہ ہمارے ہاں ایسے اداروں کی کمی ہے جو ہونہار طلبہ و طالبات کی علمی و تحقیقی صلاحیتوں کو پروان چڑھانے کے لیے حکومتی یا دیگر سطحوں پر ضروری سہولیات فراہم کر سکیں۔ جامعۃ المصطفیٰ العالمیہ ایک ایسا پلیٹ فارم ہے جو محقق طلبہ کو ضروری سہولیات اور مواقع فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

انہوں نے تحقیقی مجلات میں اہل تشیع کی محدود نمائندگی کی طرف توجہ دلاتے ہوئے کہا: ہائر ایجوکیشن کمیشن سے منظور شدہ سو سے زائد مذہبی تحقیقی مجلات میں اہل تشیع کا صرف ایک مجلہ شامل ہے، جو ہمارے لیے قابل غور امر ہے۔
انہوں نے مزید کہا: پہلی مرتبہ مختلف جامعات میں مختلف علمی فنون کے حوالے سے تربیتی کورسز منعقد کیے جا رہے ہیں، جو ایک اہم پیش رفت ہے۔ گزشتہ ستر برسوں کی علمی تاریخ میں اپنے مکتب کی علمی شناخت کے ساتھ تحقیقی میدان میں اس سطح پر آگے آنے کی مثالیں بہت کم ملتی ہیں، لیکن اب ہمارے طلبہ و طالبات سو سے زائد مجلات میں تحقیقی مقالات تحریر کر چکے ہیں۔ یہ ایک نئی علمی تاریخ کا آغاز ہے۔
ڈاکٹر کاظم سلیم نے اس منصوبے کو ایک آزمائشی آغاز قرار دیتے ہوئے کہا: اساتذہ اور اداروں نے جس طرح تعاون کیا ہے، اس سے آئندہ کے لیے حوصلہ ملا ہے۔ ان شاء اللہ اس سلسلے کو مزید آگے بڑھایا جائے گا۔ انہوں نے اعلان کیا کہ تعطیلات کے دوران منتخب طلبہ و طالبات کو اپنے اخراجات پر اسلام آباد لے جایا جائے گا، جہاں انہیں تحقیقی تربیت فراہم کی جائے گی۔
انہوں نے زبان شناسی کو بھی ایک اہم علمی ضرورت قرار دیتے ہوئے کہا: دینی مدارس اس شعبے میں بھی مؤثر کردار ادا کر سکتے ہیں۔

کتب و تحقیقی مقالات کی نمائش
تقریب کے موقع پر آڈیٹوریم کے باہر حجت الاسلام شیخ محمد جان حیدری کی سربراہی میں کتابوں اور تحقیقی کاموں کی نمائش کا بھی اہتمام کیا گیا تھا۔ نمائش میں رہبرِ شہید (ره) کی تصانیف، بلتستان کے مصنفین اور مترجمین کی کتابیں اور رہبرِ شہید (ره) کے افکار پر طلبہ و طالبات کے تحریر کردہ مضامین اور تحقیقی مقالات رکھے گئے تھے۔
قابل ذکر ہے کہ شرکائے تقریب نے نمائش میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا اور مقامی اہل قلم کی علمی و تحقیقی کاوشوں کو سراہا۔
تقریب کا اختتام دعائے امام زمانہ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف سے ہوا۔ حجت الاسلام شیخ محمد علی ذاکری نے دعا کی تلاوت فرمائی، جس میں شرکائے تقریب نے اجتماعی طور پر شرکت کی۔ اس موقع پر علمی و تحقیقی تحریک کے تسلسل، کامیابی، ملت کی سربلندی اور امام زمانہؑ کے ظہور میں تعجیل کے لیے خصوصی دعائیں کی گئیں۔












آپ کا تبصرہ